Ticker

6/recent/ticker-posts

مہاراشٹرا بارشوں سے بری طرح متاثر۔ کون ‏کون ‏سے ‏علاقے ‏ہے ‏ذد ‏میں

مہلوکین کے ورثا کیلئے 2لاکھ روپئے ۔ 

وزیراعظم مودی کا اعلان


مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے چیف منسٹر ٹھاکرے سے بات کی
ریاست کے متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا جائزہ ۔ چیف منسٹر کا اجلاس l مسلسل بارش اور راستے خراب ہوجانے سے بچاؤ سرگرمیاں متاثر

ممبئی : مغربی مہاراشٹرا اور ساحلی کونکن خطہ میں لگاتار بارش کے سبب زمینی تودے کھسکنے کے نتیجہ میں کم از کم 136افراد کی موت ہوگئی جبکہ مانسون اس خطہ میں جمعہ کو ہی پوری شدت سے جاری ہے۔ بالعموم خشک رہنے والے مرٹھواڑہ اور ودربھ علاقوں کے بشمول ساری ریاست میں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارش ہوئی ہے لیکن رائے گڑھ، چپلون اور کھیڑ کے مہاڑ اور پولاس پور تحصیلوں کے ساتھ ساتھ اضلاع کولہاپور، ستارا اور سانگلی کی شوگر بیلٹ میں بھی صورتحال خراب ہے۔ مہلوکین میں سے 49 رائے گڑھ میں تین علحدہ واقعات میں فوت ہوئے۔ جمعرات کی شام مہاڑ کے ایک گاؤں میں تودے کھسکنے سے دردناک واقعہ پیش آیا۔ تقریباً 35 مکانات کا پورا گاؤں آناً فاناً زمینی تودوں میں دب گیا۔ کچھ اسی طرح کا واقعہ 2014ء میں پونے میں پیش آیا تھا۔ اموات کی قطعی تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی لیکن حکام نے بتایا کہ ابھی تک ملبہ سے 35 نعشیں برآمد کی جاچکی ہیں جبکہ زائد از 70 افراد لاپتہ ہیں۔ موسلادھار بارش کے نتیجہ میں تباہی کا سب سے پہلے مقامی لوگوں نے ہنگامی اقدامات کئے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی جان بچانے کی کوشش کی۔ ریلیف ٹیموں کو تباہ حال گاؤں پہنچنے میں مشکل پیش آئی کیونکہ راستے خراب ہوگئے تھے۔ پھر شام میں بارش بڑھنے کے بعد راحت کاری سرگرمی کو روک دینا پڑا۔ پڑوسی گاؤں میں تودے کھسکنے کا ایک اور واقعہ پیش آیا جہاں 5 افراد کی موت ہوئی۔ مزید 6 افراد تعلقہ پولاد پور میں فوت ہوئے ہیں۔ درجنوں زخمیوں کا مختلف دواخانوں میں علاج جاری ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے تودے کھسکنے کے رائے گڑھ کے سانحہ پر افسوس ظاہر کیا اور مہلوکین کے ورثا کیلئے پی ایم نیشنل ریلیف فنڈ سے فی کس 2 لاکھ روپئے معاوضہ کا اعلان کیا۔ پی ایم او نے بتایا کہ زخمیوں کو 50 ہزار روپئے دیئے جائیں گے۔ مودی نے ٹوئیٹ کیا کہ مہاراشٹرا کے رائے گڑھ میں تودے کھسکنے کے نتیجہ میں جانی نقصان پر انہیں دکھ ہوا ہے۔ غمزدہ خاندانوں سے انہیں تمام تر ہمدردی ہے اور زخمیوں کی عاجلانہ صحتیابی کی تمنا رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسلادھار بارشوں کے سبب مہاراشٹرا کی صورتحال پر نظر رکھی جارہی ہے۔ مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے چیف منسٹر مہاراشٹرا ادھوٹھاکرے سے بات کی اور کہا کہ مرکز اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ریاستی حکومت کی ہر ممکن مدد کرے گا۔


 ریاست میں اپوزیشن بی جے پی نے ٹھاکرے زیرقیادت مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو موجودہ صورتحال کیلئے ذمہ دار قرار دیا ہے۔ بی جے پی کے اپوزیشن لیڈر پروین ڈاریکر نے کہا کہ متاثرہ مقام پر جب وہ پہنچے تک مقامی نظم و نسق یا این ڈی آر ایف میں سے کوئی بھی وہاں موجود نہیں تھے۔ چیف منسٹر ٹھاکرے نے کونکن کی صورتحال کا ہنگامی اجلاس میں جائزہ لیا اور یقین دلایا کہ بچاؤ سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں اور حکومت کی ترجیح کسی بھی قیمت پر جانوں کو بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچاؤ ٹیموں کو کئی مقامات پر متعدد مسائل کا سامنا ہے کیونکہ سڑکیں خراب ہیں، لگاتار بارش اور زمینی تودے کھسکنے سے صورتحال ابتر ہوگئی ہے۔ رتناگری کا چپلون علاقہ ریاست کی بدترین متاثرہ تحصیل ہے۔ جمعہ کی صبح بارش تھم گئی جس سے مقامی لوگوں کو کچھ حد تک راحت ملی۔ تاہم یہ علاقہ گزدشتہ دو یوم موسلادھار بارشوں سے بڑی تباہی کا شکار ہوا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے