Ticker

6/recent/ticker-posts

پارٹی سربراہ شرد پوار کے نظریہ کو عام کرنا اور سماج کے مسائل حل کرنا اولین ترجیح: آصف شیخ


راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی کی جانب سے آج 16 ستمبر 2021ء بروز جمعرات ایک تقریب کے دوران پارٹی کے مختلف شعبوں اور ونگ کے ذمہ داران اور عہدیداران کا تقرر عمل میں آیا۔ضلع راشٹریہ وادی کانگریس اور راشٹریہ وادی کانگریس یوا ونگ کی مشترکہ تقریب میں کیمپ، سنگمیشور سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں پارٹی کی ساکھ کو مستحکم کرنے اور سماجی مسائل حل کرنے کیلئے 175 عہدوں پر کارکنان کا تقرر عمل میں آیا۔ اس میں صدر، نائب صدر، سکریٹری، جنرل سکریٹری اور ترجمان کے عہدے شامل ہیں۔اس کے علاوہ یوا راشٹریہ وادی کانگریس کے 200 کارکنان کو بھی مختلف عہدے تفویض کئے گئے جیسےعباس علی خانوادے کے چشم چراغ سید محمد علی کو نائب صدر کا عہدہ شیخ آصف کے ہاتھوں دیا گیا۔
اس موقع پر راشٹریہ وادی کانگریس کے صدر شیخ آصف نے کہا کہ پارٹی سربراہ شرد پوار کے نظریہ 80 فیصد سماج کارن(کام) اور 20 فیصد راج کارن کے تحت شہر مالیگاؤں راشٹریہ وادی کانگریس میں عہدیداران کا تقرر عمل میں آیا۔ اسی نظریہ کو عوام تک پہنچانے کیلئے عہدیداران کو مختلف ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اور امید ہے کہ اس کے ذریعے کارکنان و عہدیداران محنت کریں گے اور پارٹی کو استحکام عطا کریں گے۔شیخ آصف نے نومنتخب عہدیداران کو ہدایت دی کہ وہ پارٹی کے نظریہ کو سمجھیں اور اسے عوام تک پہنچائیں۔سماج کے ہر طبقہ تک رسائی حاصل کریں، ان کے مسائل جانیں اور انہیں حل کرنے کی کوشش کریں۔پارٹی کو مضبوط کرنے کیلئے کارکنان اور عہدیداران مستعد ہوجائیں۔شیخ آصف نے مزید کہا کہ پارٹی نے گذشتہ کچھ عرصہ میں شہر کی عوام اور شہری مسائل کی مناسبت سے متعدد سیل اور ونگ تشکیل دیئے ہیں اور عہدیداران کا تقرر بھی کیا ہے۔آئندہ یکم اکتوبر سے تمام ونگ کے ذمہ داران اور کارکنان طے شدہ لائحہ عمل اور منصوبہ بندی کے مطابق زمینی سطح پر محنت کا آغاز کریں گے،عوام کے مسائل جاننے کیلئے محلہ محلہ جائیں گے۔ اس کے علاوہ خواتین ونگ کے ذمہ داران خواتین کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے سینہ سپر ہوں گے۔راشٹریہ وادی کانگریس صدر نے کہا کہ اب باقائدہ طور پر عملی میدان میں اترنے کا وقت آگیا ہے، بوقت ضرورت پارٹی کی اعلی کمان میں شامل لیڈران کو بھی مالیگاؤں مدعو کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ کل بروز جمعہ کو ہونے والے راشٹریہ وادی کے استقبالیہ جلسے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا جلسہ استقبالیہ جلسہ ہے۔شہید عبدالحمید روڈ اور اس سے متصل کئی علاقوں کے نوجوانوں کی دیرینہ خواہش تھی کہ وہ استقبالیہ جلسہ کا انعقاد کریں۔ حال ہی میں دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی جلسوں کا انعقاد کیا لیکن ہم نے دیڑھ ماہ قبل اس جلسے کی منصوبہ بندی تھی۔ ہمارا جلسہ کوئی جوابی کارروائی یا کسی عمل کا 
ردعمل نہیں ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے