Ticker

6/recent/ticker-posts

کانگریس کے ہوئے کنیہا کمار ، باضابطہ طور پر پارٹی میں بعد میں شامل ہوں گے جگنیش میوانی

کنہیا کمار نے کانگریس میں شمولیت کے بعد کہا ہے کہ مجھے یا ملک کے کروڑوں نوجوانوں کو لگنے لگا ہے کہ اگر کانگریس نہیں بچی تو ملک نہیں بچے گا ، اسی لیے میں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی ۔

نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین کے سابق صدر کنہیا کمار نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ہے ۔ کنہیا کمار نے کانگریس میں شمولیت کے بعد کہا ہے کہ مجھے یا ملک کے کروڑوں نوجوانوں کو لگنے لگا ہے کہ اگر کانگریس نہیں بچی تو ملک نہیں بچے گا ، اسی لیے میں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی ۔ کانگریس ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہے اور اس کو بچانے کی ذمہ داری ہے ۔ اگر بڑا جہاز نہیں بچے گا تو چھوٹے جہاز بھی نہیں بچیں گے ۔ ملک میں اس وقت کے نظریاتی جدوجہد کی قیادت صرف کانگریس پارٹی ہی کر سکتی ہے ۔ اس دوران کنہیا کمار نے کانگریس کو سب سے زیادہ جمہوری پارٹی قرار دیا ۔
اس سے قبل یہ خبریں آئی تھیں کہ گجرات سے آزاد ممبر اسمبلی جگنیش میوانی بھی کانگریس میں شامل ہو سکتے ہیں ۔ لیکن جگنیش نے باضابطہ طور پر کانگریس میں شمولیت اختیار نہیں کی ، کیونکہ اس کیلئے انہیں اسمبلی سے ایک آزاد ایم ایل اے کی حیثیت سے اپنی رکنیت ترک کرنا پڑے گی ۔ یہ جانکاری جگنیش میوانی نے خود دی ۔ کنیہا کے پارٹی جوائن کرتے وقت راہل گاندھی خود بھی موجود رہے اور اس کو کانگریس کی طرف سے بڑے اشارہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔
کنہیا کمار بہار کے بیگو سرائے کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے بیگو سرائے پارلیمانی سیٹ سے سی پی ایم کی ٹکٹ پر لو ک سبھا کا الیکشن لڑا تھا لیکن بی جے پی کے سینئر لیڈرگری رج سنگھ سے بڑے فرق سے شکست کھا گئے تھے۔ وہیں جگنیش میوانی شمالی گجرات کمیں بناس کانٹھا ضلع کے وڈگام اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے 2017کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی حمایت سے سیٹ جیتی تھی۔
بتادیں کہ اس سے پہلے کانگریس کے سینئر لیڈر منیش تیواری نے کنہیا کمار کے پارٹی میں شامل ہونے پر سوال کھڑے کئے تھے ۔ منیش تیواری نے ٹویٹ کرکے کہا تھا کہ کچھ کمیونسٹ لیڈروں کے کانگریس میں شامل ہونے کی قیاس آرائی ہے۔ اب شاید 1973کی کتاب ’کمیونسٹس ان کانگریس‘ کے صفحات پھر سے پلٹے جائیں۔ لگتا ہے کہ چیزیں جتنی زیادہ بدلتی ہیں، وہ اتنا ہی پہلے کی طرح بنی رہتی ہیں۔ آج اسے پھر سے پڑھتا ہوں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی کنہیا اور جگنیش کے بہانے کانگریس کو نشانہ بنایا۔ بی جے پی کے لیڈر امت مالویہ نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ سرجیکل اسٹرائک کی برسی پر کانگریس ’بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے‘ والے کنہیا کمار اور جگنیش میوانی کو قبول کررہی ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔ ہندستان کے ٹکڑے کرنے والوں کے ساتھ ہاتھ ملانا کانگریس کی عادت ہے۔
یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ ۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے